ماہانہ راشن کی خریداری میں بچت کیسے کریں؟

1 min read

Sharing is caring!


ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کو ان کی تمام ضروریات زندگی کی اشیاء کو احسن طریقے سے فراہم کرے جس کیلئے وہ ہر ممکن کوشش کرتا بھی ہے تاہم کم آمدنی کے وجہ سے اسے بہت سے معاملات میں حالات سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں عالمی وباء کورونا وائرس کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں مہنگائی کی ایک خوفناک لہر نے لوگوں کو مالی لحاظ سے بہت زیادہ پریشانی میں مبتلا کردیا جس کی بڑی وجہ آمدنی میں اضافہ نہ ہونا اور مہنگائی کا مسلسل بڑھنا ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے مقابلے میں اب اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں اور مہنگائی نے تمام لوگوں کے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔

ایسے میں محدود آمدنی کے باوجود گھریلو بجٹ کو کس طرح منظم رکھنا ہے؟ اس حوالے سے بور پانڈا کی جانب سے کیے گیے ایک سروے میں شہریوں نے اپنے تجربات پیش کیے اور مشورے دیئے کہ ماہانہ راشن کے بل میں کمی کیسے کی جا سکتی ہے؟

اس سلسلے میں ایک مشہور فنانس ماہر اور بیسٹ سیلر ’دی فنانشیلی انڈیپنڈنٹ ملی نیل‘ کے مصنف ریک اورفورڈ سے رابطہ کیا گیا جنہوں نے اپنے قیمتی مشوروں سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ گھریلو اشیائے خوردونوش کی لاگت کو کم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ پورے مہینے کی منصوبہ بندی کریں اور وہ تمام چیزیں جن کے بغیر بھی کھانا کھایا جاسکتا ہے یا وہ غیر ضروری ان کو فہرست سے نکال دیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس بات کو علم میں رکھنا چاہیے کہ اس ہفتے مارکیٹ میں کون سی چیز سستی یا مناسب قیمت پر فروخت ہو رہی ہے یا اس کی سیل لگی ہے۔

اس طرح کی سیل میں تازہ پھل اور سبزیوں کے علاوہ دیگر بیکری آئٹمز لیے جاسکتے ہیں۔ سبزیاں خریدنے کے بعد انہیں کاغذ میں لپیٹیں اور خشک اور صاف پلاسٹک کے تھیلے میں ڈال دیں، اس بات کا دھیان رہے کہ سبزی کا کوئی حصہ پلاسٹک کو نہیں لگنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں کسی برانڈ وغیرہ کے پیچھے نہیں جاتا نہ ہی زیادہ تعداد میں گوشت خریدتا ہوں بلکہ ہم بغیر گوشت کے بہت سے پکوان کھاتے ہیں اور رات کا بچا ہوا کھانا بھی کھالیتے ہیں اور اکثر ہم رات کے بچے ہوئے کھانے سے ناشتہ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ تیل، پتی اور چینی جیسی روزمرہ میں استعمال ہونے والی اشیاء کے استعمال میں لاپروائی کا مظاہرہ نہ کریں۔ ہم اکثر ان چیزوں کو ضرورت سے زیادہ استعمال کر بیٹھتے ہیں جس کی وجہ سے ان چیزوں کا ذخیرہ جلد ہی ختم ہوجاتا ہے۔

پکانے کے تیل کا کم سے کم استعمال صحت کے لیے اچھا بھی ہے جبکہ چینی کے استعمال میں کمی یا اس کو ترک کرنے کے فوائد جتنے گنے جائیں اتنے کم ہیں۔

اسی طرح آپ کو یہ احساس ہو سکتا ہے کہ آپ اپنی محنت سے کمائی گئی رقم کا ایک بڑا حصہ نمکین، سوڈا اور پروسیسڈ فوڈ پر خرچ کر رہے ہیں تو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ جنک فوڈ کا زیادہ استعمال آپ کی صحت کو تباہ کرنے والا ہے۔

 

Comments





Source link

Oval@3x 2

Don’t miss latest news!

Select list(s):

We don’t spam! Read our [link]privacy policy[/link] for more info.

🕶 Relax!

Put your feet up and let us do the hard work for you. Sign up to receive our latest news directly in your inbox.

Select Your Choice:

We’ll never send you spam or share your email address.
Find out more in our Privacy Policy.

🕶 Relax!

Put your feet up and let us do the hard work for you. Sign up to receive our latest news directly in your inbox.

Select Your Choice:

We’ll never send you spam or share your email address.
Find out more in our Privacy Policy.

Sharing is caring!

Read More :-  ملک کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا؟ فیصلہ کل کیا جائے گا

You May Also Like

More From Author