ریسٹورنٹ میں ماؤتھ فریشنر کھانے سے لوگوں کی زبانیں کٹ گئیں، دل دہلا دینے والی ویڈیو

1 min read

Sharing is caring!


نئی دہلی: بھارتی شہر گڑگاؤں کے ایک ریسٹورنٹ میں اس وقت بھیانک صورت حال پیدا ہوئی جب کھانا کھانے کے بعد لوگوں نے ماؤتھ فریشنر کھایا اور وہ خون کی قے کرنے لگے۔

سوشل میڈیا پر ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں ایک کیفے کا منظر ہے اور کچھ افراد کھڑے خونی قے کر رہے ہیں، اور ان کی زبانیں کٹی ہوئی ہیں، بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ پیش آنے کے بعد پولیس نے کیفے کے منیجر کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ واقعہ 2 مارچ کو گڑگاؤں کے سیکٹر 90 میں واقع لافورسٹا کیفے میں پیش آیا، جس کے منیجر گگن دیپ کو پولیس نے منگل کو گرفتار کیا ہے، کیفے میں کئی دوستوں نے ڈنر کے بعد ’ماؤتھ فریشنر‘ کھایا، جس کے بعد وہ خونی قے کرنے لگے۔

شکایت کنندہ انکت کمار نے پولیس کو بتایا کہ وہ 2 مارچ کی شام کو اپنی بیوی نیہا سبروال اور دوستوں مانیکا، دیپک اروڑا اور ہمانی کے ساتھ کیفے گئے تھے، ڈنر کے بعد ریسٹورنٹ کے عملے نے انھیں ماؤتھ فریشنر دیا، جسے کھانے کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی۔

انکت کمار نے کہا ماؤتھ فریشنر کھانے کے بعد انھیں خونی قے آنے لگی، منہ جلنے لگا اور زبان کٹ گئی، پتا نہیں کسی قسم کا تیزاب دیا گیا تھا، انھوں نے الزام لگایا کہ ریسٹورنٹ انتظامیہ اور عملے نے ان کی بگڑتی ہوئی حالت کے باوجود مدد نہیں کی، تحقیقات کے دوران پتا چلا کہ متاثرین کو ’ڈرائی آئس‘ (کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ٹھوس شکل جو کولنگ ایجنٹ کے طور پر استعمال ہوتی ہے) دی گئی تھی جو کہ ایک جان لیوا تیزاب ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

Comments





Source link

Oval@3x 2

Don’t miss latest news!

Select list(s):

We don’t spam! Read our [link]privacy policy[/link] for more info.

🕶 Relax!

Put your feet up and let us do the hard work for you. Sign up to receive our latest news directly in your inbox.

Select Your Choice:

We’ll never send you spam or share your email address.
Find out more in our Privacy Policy.

🕶 Relax!

Put your feet up and let us do the hard work for you. Sign up to receive our latest news directly in your inbox.

Select Your Choice:

We’ll never send you spam or share your email address.
Find out more in our Privacy Policy.

Sharing is caring!

You May Also Like

More From Author