ملک کو آگے لے جانے کیلیے تقسیم ختم کرنا ہوگی

1 min read

Sharing is caring!


اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ملک کو آگے لے جانے کیلیے تقسیم ختم کرنا ہوگی، ملک کو حالیہ سیاسی بحران سے نکالنے کی ضرورت ہے، سیاسی ماحول کی ازسرِ نو ترتیب کی جا سکتی ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پہلے پارلیمانی سال کے آغاز پر تمام معزز ممبران کو انتخاب پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، وزیر اعظم، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو انتخابی کامیابیوں اور ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ ماضی میں بطور صدر میرے اہم فیصلوں نے تاریخ رقم کی، بطور صدر میں نے  پارلیمنٹ کو اپنے اختیارات دینے کا انتخاب کیا آج ہمارے ملک کو دانشمندی اور پختگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے اراکین پارلیمنٹ اختیارات کا دانشمندی سے استعمال کریں گے، صدر کا کردار ایک متفقہ اور مضبوط وفاق کے اتحاد کی علامت ہے، تمام لوگوں اور صوبوں کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میری رائے میں آج ایک نئے باب کا آغاز کرنے کا وقت ہے، آج کے دن کو ایک نئی شروعات کے طور پر دیکھیں، اپنے لوگوں پر سرمایہ کاری کرنے اور عوامی ضروریات پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جامع ترقی کی راہیں کھولنا ہوں گی، ہمارے پاس ضائع کرنے کیلیے وقت نہیں ہے، پولرائزیشن سے ہٹ کر عصر حاضر کی سیاست کی طرف بڑھنا ملکی ضرورت ہے، اس ایوان کو پارلیمانی عمل پر عوامی اعتماد بحال کرنے کیلیے قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، ایوان کے ذریعے قوم کی پائیدار اور بلاتعطل ترقی کی بنیاد رکھی جانی چاہیے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ تعمیری اختلاف اور پھلتی پھولتی جمہوریت کے مفید شور کو نفع نقصان کی سوچ کے ساتھ نہیں الجھانا چاہیے، سوچنا ہوگا کہ اپنے مقاصد، بیانیے اور ایجنڈے میں کس چیز کو ترجیح دے رہے ہیں، سمجھتا ہوں کہ سیاسی ماحول کی ازسرِ نو ترتیب کی جا سکتی ہے، ہم حقیقی طور پر کوشش کریں تو سیاسی درجہ حرارت میں کمی لا سکتے ہیں، ہم سب کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کیلیے سب سے زیادہ اہم چیز کیا ہے، مشکلات کو مواقع میں بدلنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سہولت کیلیے پیچیدہ قوانین آسان بنانا ہوں گے، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا قیام خوش آئند ہے، برآمدات متنوع بنانے اور عالمی منڈیوں میں مصنوعات کی قدر بڑھانا ہوگی، ہمیں نئی منڈیوں کی تلاش کیلیے کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا عفریت ایک بار پھر اپنا گھناؤنا سر اٹھا رہا ہے، دہشتگردی سے ہماری قومی سلامتی اور علاقائی امن و خوشحالی کو خطرہ ہے، پاکستان دہشتگردی کو ایک مشترکہ خطرہ سمجھتا ہے، اس سے نمٹنے کیلیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

Comments





Source link

Oval@3x 2

Don’t miss latest news!

Select list(s):

We don’t spam! Read our [link]privacy policy[/link] for more info.

🕶 Relax!

Put your feet up and let us do the hard work for you. Sign up to receive our latest news directly in your inbox.

Select Your Choice:

We’ll never send you spam or share your email address.
Find out more in our Privacy Policy.

🕶 Relax!

Put your feet up and let us do the hard work for you. Sign up to receive our latest news directly in your inbox.

Select Your Choice:

We’ll never send you spam or share your email address.
Find out more in our Privacy Policy.

Sharing is caring!

You May Also Like

More From Author